اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں ایک خصوصی تقریب میں صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایران کے نوجوان اور شہید سائنسدانوں کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی جوہری حصولیابیوں کی رونمائی کی اور اہم کامیابیوں کا اعلان کیا۔ اس تقریب میں وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی اور نیوکلیئر آرگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹر فریدون عباسی، اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر سعید جلیلی نیز کئی ممالک کے سفراء شریک تھے جبکہ امریکی اور عرب ممالک کے اہم ٹیلی ویژن چینلز نے اس تقریب کو براہ راست نشر کیا۔ ــ تہران ریسرچ ری ایکٹر میں 20 فیصد افزودہ یورینیم کی تنصیبکل شام کو صدر احمدی نژاد اور شہید ڈاکٹر شہریاری کے فرزند نے 20 فیصد افزودہ ایندھن تہران ریسرچ ری ایکٹر میں نصب کردیا۔تہران ریسرچ ری ایکٹر میں کینسر اور دیگر امراض میں مبتلا افراد کے لئے جوہری دوائیں (Radiopharmaceuticals) تیار کی جاتی ہیں۔ یہ دوائیں برسوں سے ایران میں تیار ہوتی تھیں اور اس کے لئے ایندھن امریکہ سے خریدا جاتا تھا لیکن امریکیوں نے ایندھن کو بھی اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا اور یوں ان دواؤں کے محتاج 10 لاکھ مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایران نے یہ دوائیں مغربی ممالک سے برآمد کرنا شروع کردیں جس کے لئے بہت بڑا زر مبادلہ خرچ کیا جاتا تھا اور مریضوں کو بھی زیادہ قیمت ادا کرکے یہ دوائیں فراہم کرنی پڑتی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی نئی جوہری حصولیابیوں کی رونمائی کی تقریب میں وزیر خارجہ و جوہری سائنسدان ڈاکٹر علی اکبر صالحی، مغربی و اسرائیلی دہشت گردانہ کاروائی سے بال بال بچنے والے جوہری ادارے کے سربراہ ڈاکٹر فریدون عباسی، ادارے کے دیگر ماہرین، 20 فیصد افزودگی کے بانی اور مغربی اسرائیلی دہشت گردانہ کاروائی میں شہید ہونے والے ڈاکٹر پروفیسر مجید شہریاری کے فرزند اور کئی ممالک کے سفیر بھی موجود تھے۔تہران ریسرچ ری ایکٹر میں 20 فیصد افزودہ یورینیم کی فیولنگ اور 20 فیصد تک افزودگی کی صلاحیت کا حصول، پرامن جوہری ایندھن کی پیداواری سائیکل کی تکمیل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔علاوہ ازیں صدر احمدی نژاد نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے نطنز نیوکلئیر تنصیبات میں ایرانی سینٹری فیوجز کی نئی نسل کی تنصیب کی ہدایات جاری کردیں اور ویڈیو کانفرنس ہی کے ذریعے فُردو نیوکلیئر پلانٹ میں 20 فیصد افزودگی کے منصوبے کے تحت ایندھن کی مسلسل فراہمی کے احکامات بھی جاری کردیئے۔ ــ صدر اسلامی جمہوریہ ایران: ایران جوہری خدمات برآمد کے لئے تیار ہےصدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے تین اہم ایٹمی حصولیابیوں کی تقریب میں کہا ایران آئی اے ای اے کے ضوابط کے تحت جوہری ایندھن دوسرے ملکوں کو برآمد کرنے کے لئے تیار ہے۔اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر احمدی نژاد نے تہران کے 5 میگاواٹ جوہری ریسرچ ری ایکٹر میں ایران میں تیار کردہ 20 فیصد افزودہ ایندھن کی تنصیب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان مغربی ممالک پر تنقید کی جنہوں نے نیوکلیئر سائنس کو جوہری بم کے مترادف قرار دیا ہے اور جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے سلسلے میں ملت ایران کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔انھوں مغربی ممالک کو نصیحت کی کہ وہ اپنا ریکارڈ مزید سیاہ نہ کریں۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: ہم نے دو سال قبل آئی اے ای اے تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کا ایندھن ختم ہونے لگا تو یہ آئی اے ای اے کو قانون کے مطابق ہمیں ایندھن دینا چاہئے تھا چنانچہ ہم نے اس بین الاقوامی ایجنسی کو خط لکھا کہ وہ ہمارے لئے قانون کے مطابق ایندھن فراہم کرے لیکن بین الاقوامی ایجنسی نے کہا کہ ایران کی درخواست پر غور کیا جائے گا اور اس کے بعد کہا کہ ہم ان ممالک سے رابطہ کریں جو 20 فیصد افزودہ یورینیم تیار کرتے ہیں اور ہم نے ان ممالک سے رابطہ کیا تو بھی کوئی مثبت جواب نہ ملا۔انھوں نے کہا کہ تہران ری ایکٹر میں دوائیں تیار ہوتی ہیں لیکن ایجنسی تمام مفاہمت ناموں کی خلاف ورزی کی۔ ایجنسی اور مسلط قوتیں ایران کو بلیک میل کرنا چاہتی تھیں اور ایندھن کو ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرکے ہم پر اپنی خواہشات مسلط کرنا چاہتی تھیں اور ان کی یہ خواہشات ہمارے سائنسی سفر کو مخدوش کرسکتی تھیں؛ چنانچہ اسی زمانے میں ہم نے ایجنسی سے کہا کہ اگر وہ ہمیں جوہری ایندھن نہ دے تو ہم خود ایندھن تیار کریں گے اور اس کے بعد ایندھن کے عوض سے ہم سے اپنی باتیں منوانے کی کوشش کرنے والے ممالک کے حکام نے اپنے انٹرویوز میں کہا کہ ایران دھونس جما رہا ہے اور چونکہ ایران افزودگی کے عمل سے عاجز ہے اور اگر مغربی ممالک اس کو ایندھن نہ دیں تو اس کے طبی شعبے پر دباؤ آئے گا لہذا ایران کی حکومت بہت جلد اپنے اس اعلان سے نادم ہوگا اور ہماری شرطوں پر ہم سے ایندھن خریدنے پر مجبور ہوگا؛ تا ہم ہم نے اپنے ماہرین سے کہا کہ 20 فیصد افزودگی کی طرف قدم بڑھائیں۔ اس ایندھن کی تیاری کے لئے اعلی درجے کی ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایندھن کو پلیٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور ہر پلیٹ کا قُطر 105 ملی میٹر ہوتا ہے اور ان پلیٹوں کا مرکز در حقیقت ایندھن ہوتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے لئے بے پناہ مطالعات و تحقیقات کی ضرورت تھی چنانچہ سائنسدانوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے لئے دو سال کی مدت درکار ہے۔ انھوں نے کہا: اس منصوبے کے تحت ہمیں 20 فیصد افزودہ یورینیم تیار کرنے کی ضرورت تھی جبکہ اس سے قبل ہم 3.5 فیصد افزودگی کی صلاحیت حاصل کرچکے تھے اور تہران ری ایکٹر کے لئے ماہانہ ڈیڑھ کلو گرام 20 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت ہے اور ہر تین سال بعد پورے مجموعے کو تبدیل کیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہماری ایک اہم حصولیابی یہ تھی کہ اس مدت میں ہمارے 3.5 فیصد کی مقدار میں 50 فیصد اضافہ ہوا اور ہمارے پاس 6000 فعال سینٹری فیوجز تھے جن کی تعداد 9000 ہوگئی۔ انھوں نے کہا: ہمارے سائنسدانوں نے نئے سینٹری فیوجز تیار کئے ہیں جن کی گنجائش سابقہ سینٹری فیوجز سے تین گنا زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: ہماری جوہری حصولیابیاں پوری انسانیت کے لئے ہیں؛ ہم مغربیوں کی طرح جوہری ٹیکنالوجی اپنے انحصار میں نہیں رکھنا چاہتے اور ایران آئی اے اي اے کے ضوابط کے دائرے میں دوسرے ملکوں کو جوہری ایندھن منتقل کرنے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے سائنسدانوں کو ہدایت کی کہ وہ تہران ری ایکٹر کی طرح کے متعدد ری ایکٹرز تیار کرنے کی کوشش کریں تا کہ ملک کے مختلف حصوں میں جوہری ادویات کی تیاری ممکن ہوسکے۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: ہم مغربی ممالک کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان کی دہشت گردی سے نہیں ڈرتے تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جوہری سائنسدانوں کی حفاظت کے لئے مناسب اقدامات کرے اور یہ اقدامات ہم ضرور عمل میں لائیں گے۔ ــ ہمارے بعض پڑوسیوں کو بموں سے لیس کیا گیا ہےڈاکٹر احمدی نژاد نے مغرب کی تشہیری مہم اور مغربی حکمرانوں کی طرف سے ہتھیاروں کی مخالفت کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مغربی ممالک نے ہمارے بعض پڑوسی ممالک کو بعض بموں سے لیس کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایران کی نئی حصولیابیوں کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: دنیا پر تسلط کے خواب دیکھنے والے ہتھیاروں کے خلاف نہيں ہے بلکہ وہ قوموں کی ترقی کے خلاف ہیں اور ہتھیاروں کی مخالفت ایک ڈھونگ ہے کیونکہ ہمیں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق مغربی ممالک نے ہمارے پڑوس میں بعض ممالک کو بے شمار بم فراہم کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغربی طاقتیں ایک طرف سے ایران کے خیالی بم کی مخالفت کرتے ہيں اور دوسری طرف سے ہمارے پڑوسیوں کو بموں سے مسلح کرتے ہیں۔ وہ در حقیقت اپنا مذاق اڑا رہے ہیں اور دنیا اور تاریخ بھی ان سب کا مذاق اڑائے گی۔ انھوں نے کہا: ملت ایران اپنا راستہ پاچکی ہے اور اس پر گامزن ہوچکی ہے چنانچہ ہم مغربی ممالک کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے بھونڈے اعمال جاری رکھنے سے باز آئیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے تمام شہید سائنسدانوں کا خون تسلط پسند طاقتوں کے ذمے لکھا گیا اور ایرانی ملت اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی۔
ــ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو جوہری شہیدوں سے منسوب کیا گیا جوہری حصولیابیوں کی رونمائی کے موقع پر ایران کی ایٹمی تنصیبات کے نام تبدیل کرکے شہید جوہری سائنسدانوں کے نام سے منسوب کی گئیں۔اطلاع کے مطابق فردو انرچمنٹ سائٹ کا کو شہید ڈاکٹر مسعود علی محمدی کے نام سے، نطنز انرچمنٹ سائٹ کو شہید ڈاکٹر مصطفی احمدی روشن کے نام سے، نطنز سائٹ کے S8 کملیکس کو شہید رضا قشقائی کے نام سے، ایٹامک انرجی آرگنائزیشن کو مرکز کو شہید ڈاکٹر مجید شہریاری کے نام سے جبکہ مرکزی پردیس کمپلیکس کو شہید داریوش رضایی نژاد کے نام سے منسوب کیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110